Haalim Episode 12

Haalim Episode 12 Online reading and download pdf available here. The Episode 12 is about King maker (Sultaan Saaz) going to be uploaded here soon.
Haalim Episode 12

Haalim Episode 12
Now read Haalim Episode 12 on Paki Portal live in High Quality.
Taaliyah Murad : Jo larki Talaaq Survive ker leti hai, woh har cheez Survive ker sakti hai.

Haalim Episode 12


Haalim is one of the best novel after great success of Namal by Nimra Ahmed, meaning of Haalim is The Dreamer, and it is about time traveling. Furthermore 11 successful episodes have been published and you are going to read Episode 12 very soon on our website.

Some beautiful sayings from Haalim are quoted here for our beloved readers:

Quotes from Haalim

کمزور لوگ شاید اپنے لیے کھڑے نہ بھی ہوں تو اس کے لیے ضرور ہوتے ہیں جس سے وہ محبت کرتے ہیں-

کیا تمہیں وہ بہادر غلام یاد ہے جو کسی انسان سے نفع نقصان کی امید نہیں رکھتا تھا؟ نہ وہ کسی سے ڈرتا تھا؟
وہ دلیر غلام تمہارے حق کے لیے آواز اٹھانے بنداہارا کے پاس گیا تھا- اس نے بنداہارا سے کہا کہ مسلمان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا اس لیے وہ تمام ناجائز غلاموں کو آزاد کر دے-
اور جانتے ہو اس کے ساتھ کیا ہوا؟ اس کو مراد راجہ نے قید کر دیا- اور اس کو اتنا مارا کہ اس کی ہر رگ سے خون بہنے لگا-
اب تم لوگ مفت کی وہ روٹی توڑ رہے ہو جو اس کی وجہ سے تمہیں ملی تھی- کیا تم نے اس کو ایک دفعہ بھی یاد نہیں کیا جو تمہارے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال بیٹھا ہے؟ اگر وہ مر گیا تو کون تمہارے لیے دوبارہ کھڑا ہوگا؟ کون تمہارے لیے لڑے گا؟ ملاکہ کے لوگوں…. تم کب تک اپنے مالکوں سے ڈرتے رہوگے؟
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم اپنے خوف دور کر دو اور اس انسان کے لیے کھڑے ہو جاؤ جس کو تمہاری ضرورت ہے؟
کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ ہوتا ہے؟ کیا اپنا خیال رکھنے والے ساتھی کے لیے تم کوشش نہیں کر سکتے؟
کیا تم اس کے لیے کچھ نہیں کروگے؟ کیا تم اس کے لیے ویسے جان نہیں ماروگے جیسے اس نے تمہارے لیے ماری؟ کیسے دوست ہو تم لوگ؟
دوستوں کے لیے تو جان تک دے دی جاتی ہے- اگر مشکل میں ایک دوسرے کے لیے وقت ہی نہیں نکالنا تو پھر کیسے دوست ہوئے تم؟
اپنے کن مالکوں سے ڈرتے ہو تم؟ ان سے جنہوں نے تمہیں بھوک اور ظلم تلے پیس کے رکھا ہوا ہے؟ مسلمان ہونے کے باوجود غلام بنا رکھا ہے؟ جانتے ہو نا، مسلمان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا- صرف غیر مسلم جنگی قیدی غلام بنتے ہیں-
اگر آج تم اپنے ساتھی کے لیے نہیں کھڑے ہوتے تو کل کو تم میں سے ایک ایک کو مراد راجہ اٹھا کے اپنے قید خانے میں ڈال دے گا- ڈرو اس وقت سے-
اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کرو اور وان فاتح کے لیے آواز بلند کرو- میں مراد راجہ کی بیٹی تاشہ بنتِ مراد ہوں اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہیں کوئی سپاہی نقصان نہیں پہنچائے گا-
میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہارے مالک بھی تمہیں نقصان نہیں دے سکیں گے- کیونکہ تم حق کے ساتھ ہو- حق کے لیے کھڑے ہونے والوں کا ساتھ ہمارا رب تعالیٰ دیتا ہے-
کیونکہ اگر آج تم نے مراد راجہ سے اس ظلم کا حساب نہ لیا تو اس کا ہاتھ نہیں رکے گا- خود کو کمزور سمجھنا چھوڑ دو-
تم کمزور نہیں ہو- تم اس شہر کے سب سے طاقتور لوگ ہو- تمہیں اٹھنا ہے اپنے ساتھی کے حق کے لیے- تمہیں اٹھنا ہے ظلم کے خلاف-
اور تم یہی سوچ رہے ہو نا کہ تم لوگ آخر کیا کر سکتے ہو؟ تو میں تمہیں بتاتی ہوں کہ کس طرح تم راجہ مراد کے سارے محل کو ہلا کے رکھ سکتے ہو- نہ کسی تیر سے نہ تلوار سے- صرف اپنی ایک چپ سے-