Ye Ummat Rewayat Important Kho Gai Afsana By Mehreen Naz

یہ امت روایات میں کھو گئ

yeh ummar rewayat predominant kho gai

وہ لمحہ کسی قیامت سے کم نہ تھا جب اسکے نکاح کے دوروز پہلے اسکا رشتہ ٹوٹ گیا تھا اور پتہ ہے کیوں کیونکہ جہیز مکمل نہ ہوسکا تھا سسرال والوں کی ڈیمانڈز میں کمی رہ گئ تھی اور انہوں نے یہ کہہ کر رشتہ توڑ دیا کہ آپکی بیٹی کوئ اتنی خوبصورت تو ہے نہیں وہ تو ہمارا احسان مانیں کہ ہم نے رشتہ کیا ورنہ اسے لیتا کون اب آپ جہیز بھی نہیں دے پارہے نا بابا نہ ہم رشتہ نہیں کرسکتے

اس باپ نے اپنی ساری کمائ لٹادی تھی کہ بیٹی کو بیاہ دے لیکن صرف ایک ڈیمانڈ پوری نہ کر سکنے پر انہوں نے رشتہ ہی توڑ دیا

دوسری جانب دوسری بیٹی بھی طلاق یافتہ تھی وہ بھی صرف اس بناء پر کہ اسے بیٹی کیوں ہوئ بیٹا کیوں نہیں ہوا جس بیٹی کا رشتہ ٹوٹا تھا اسکے سسرال والوں پر ساری جمع پونجی لٹادی تھی پہلے میٹھا منہ ہوا پھر گھر میں منگنی ہوئ پھر ہال میں منگنی ہوئ اور پھر شادی کے دوران ڈھولکی مایوں مہندی کی رسموں نے رہی سہی کسر پوری کردی لیکن شادی تو پھر بھی نہ ہوسکی اس دن محسوس ہورہا تھا کہ قصور ہمارا ہی ہے

جو ہم سسرال والوں کو اتنا شے دے دیتے ہیں کہ ساری حدود تک پامال کردیتے ہیں یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے یہ ہم ہی لوگ ہیں جو دوسروں کو موقع دیتے ہین کہ ہمارے گھر میں آکر ہمارے دسترخوان پر بیٹھ کر ہماری بچیوں میں سے ہی غیب نکال کر ہمارے سامنے پیش کریں اور ہم مروتا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سب کچھ برداشت کیے جاتے ہیں کہ بیٹی کا معاملہ ہے کہیں بات بگڑ نہ جائے ہم اپنی توہین خود اپنے ہاتھوں سے کرواتے ہیں ہم ہی انکی آو بھگت میں کوئ کمی نہیں چھوڑتے اور پھر جب انکا جی نہیں بھرتا تو وہ لوگ ہماری عزت کا جنازہ نکال کر چلے جاتے ہیں اور ہم پھر بھی کچھ نہیں کرتے۔۔۔۔۔نہ آواز اٹھاتے ہیں ۔۔۔۔۔ نہ ان خرافات کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔۔۔۔بلکہ اپنا تماشہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے بنواتے ہیں۔۔۔ان روایات کی وجہ سے ہی آج ہم زوال کا شکار ہیں کیونکہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین تو یہ نہیں سکھاتا ۔۔۔ جہاں بچیوں کی دل آزاری کی جائے یا ایسے رواج اور روایات قائم ہوجائیں جو زمانہ جاہلیت میں تھے ناصرف شادی بیاہ میں بلکہ اسلے علاوہ بھی کئ ایسے رواج قائم ہوچکے ہیں کہ جو جان وبال بن چکے ہیں اور جنہیں پورا کرنا شرط اول ہوگیا ہے لیکن دین میں اسکا کوئ تصور ہی نہ ہو۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں تو انسان کے پاس شعور نہ تھا لیکن افسوس کے ساتھ آج شعور ہے علم ہے  لیکن برائ سے روکنے کا جذبہ نہیں ہے اسلیے پڑھے لکھے ہوں یا جاہل سب اسی برائ کا حصہ بنتے چلے جا رہے ہیں وہ بھی انتہائ فخر سے اور بےحسی کا یہ عالم ہے کہ ہاں ہمارا ضمیر ہی مرچکا ہے شاید اسی لیے برائ برائ نہیں لگتی۔۔۔۔۔۔

حقیقت خرافات میں کھوگئ

یہ امت روایات میں کھوگئ