Ye Ummat Rewayat Important Kho Gai Afsana By Mehreen Naz

یہ امت روایات میں کھو گئ

yeh ummar rewayat predominant kho gai

” data-medium-file=”https://i0.wp.com/studying.Pakiportal.web/wp-content/uploads/2019/07/Untitled-1.png?match=500%2C333&ssl=1″ data-large-file=”https://i0.wp.com/studying.Pakiportal.web/wp-content/uploads/2019/07/Untitled-1.png?match=500%2C333&ssl=1″ class=”size-full wp-image-17467 jetpack-lazy-image” src=”https://i0.wp.com/studying.Pakiportal.web/wp-content/uploads/2019/07/Untitled-1.png?resize=500%2C333&ssl=1″ alt=”yeh ummar rewayat predominant kho gai” width=”500″ peak=”333″ data-recalc-dims=”1″ data-lazy-src=”https://i0.wp.com/studying.Pakiportal.web/wp-content/uploads/2019/07/Untitled-1.png?resize=500%2C333&is-pending-load=1#038;ssl=1″ />

وہ لمحہ کسی قیامت سے کم نہ تھا جب اسکے نکاح کے دوروز پہلے اسکا رشتہ ٹوٹ گیا تھا اور پتہ ہے کیوں کیونکہ جہیز مکمل نہ ہوسکا تھا سسرال والوں کی ڈیمانڈز میں کمی رہ گئ تھی اور انہوں نے یہ کہہ کر رشتہ توڑ دیا کہ آپکی بیٹی کوئ اتنی خوبصورت تو ہے نہیں وہ تو ہمارا احسان مانیں کہ ہم نے رشتہ کیا ورنہ اسے لیتا کون اب آپ جہیز بھی نہیں دے پارہے نا بابا نہ ہم رشتہ نہیں کرسکتے

اس باپ نے اپنی ساری کمائ لٹادی تھی کہ بیٹی کو بیاہ دے لیکن صرف ایک ڈیمانڈ پوری نہ کر سکنے پر انہوں نے رشتہ ہی توڑ دیا

دوسری جانب دوسری بیٹی بھی طلاق یافتہ تھی وہ بھی صرف اس بناء پر کہ اسے بیٹی کیوں ہوئ بیٹا کیوں نہیں ہوا جس بیٹی کا رشتہ ٹوٹا تھا اسکے سسرال والوں پر ساری جمع پونجی لٹادی تھی پہلے میٹھا منہ ہوا پھر گھر میں منگنی ہوئ پھر ہال میں منگنی ہوئ اور پھر شادی کے دوران ڈھولکی مایوں مہندی کی رسموں نے رہی سہی کسر پوری کردی لیکن شادی تو پھر بھی نہ ہوسکی اس دن محسوس ہورہا تھا کہ قصور ہمارا ہی ہے

جو ہم سسرال والوں کو اتنا شے دے دیتے ہیں کہ ساری حدود تک پامال کردیتے ہیں یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے یہ ہم ہی لوگ ہیں جو دوسروں کو موقع دیتے ہین کہ ہمارے گھر میں آکر ہمارے دسترخوان پر بیٹھ کر ہماری بچیوں میں سے ہی غیب نکال کر ہمارے سامنے پیش کریں اور ہم مروتا ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سب کچھ برداشت کیے جاتے ہیں کہ بیٹی کا معاملہ ہے کہیں بات بگڑ نہ جائے ہم اپنی توہین خود اپنے ہاتھوں سے کرواتے ہیں ہم ہی انکی آو بھگت میں کوئ کمی نہیں چھوڑتے اور پھر جب انکا جی نہیں بھرتا تو وہ لوگ ہماری عزت کا جنازہ نکال کر چلے جاتے ہیں اور ہم پھر بھی کچھ نہیں کرتے۔۔۔۔۔نہ آواز اٹھاتے ہیں ۔۔۔۔۔ نہ ان خرافات کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔۔۔۔بلکہ اپنا تماشہ خود ہی اپنے ہاتھوں سے بنواتے ہیں۔۔۔ان روایات کی وجہ سے ہی آج ہم زوال کا شکار ہیں کیونکہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین تو یہ نہیں سکھاتا ۔۔۔ جہاں بچیوں کی دل آزاری کی جائے یا ایسے رواج اور روایات قائم ہوجائیں جو زمانہ جاہلیت میں تھے ناصرف شادی بیاہ میں بلکہ اسلے علاوہ بھی کئ ایسے رواج قائم ہوچکے ہیں کہ جو جان وبال بن چکے ہیں اور جنہیں پورا کرنا شرط اول ہوگیا ہے لیکن دین میں اسکا کوئ تصور ہی نہ ہو۔۔۔ زمانہ جاہلیت میں تو انسان کے پاس شعور نہ تھا لیکن افسوس کے ساتھ آج شعور ہے علم ہے  لیکن برائ سے روکنے کا جذبہ نہیں ہے اسلیے پڑھے لکھے ہوں یا جاہل سب اسی برائ کا حصہ بنتے چلے جا رہے ہیں وہ بھی انتہائ فخر سے اور بےحسی کا یہ عالم ہے کہ ہاں ہمارا ضمیر ہی مرچکا ہے شاید اسی لیے برائ برائ نہیں لگتی۔۔۔۔۔۔

حقیقت خرافات میں کھوگئ

یہ امت روایات میں کھوگئ